Mining

Gold in Saudi Arabia | Mining Started By KSA in

Gold in Saudi Arabia | Mining Started By KSA in Different Cities of Kingdom | MBS Gold Mine Big News

#Gold #Saudi #Arabia #Mining #Started #KSA

“Urdu Kitab”

Gold in Saudi Arabia | Mining Started By KSA in Different Cities of Kingdom | MBS Gold Mine Big News

source

 

To see the full content, share this page by clicking one of the buttons below

Related Articles

45 Comments

  1. Bhai ye bat to salno say logno ko pata tha k sawodia men sone k phard hin but kisi wejha say shwo nhi kiy or shayd kerna bhi nehi chayi aesi baten poshida hi rehene men aamn reheta ha. Werna log moslmano say har chiz china chate hin or moslmano ko khtem krna chate hin is lie aesi bat na hi bati jay to bhetr ha well AALHAA Pak sub moslmano ko hidayet dey or. Sub moslmano ki hifazet kere aamin orfalstino ki bui hifazet kre masjide aqsa ki hifazet kere makha madina ki hifazet kere aamin soma aamin 🤲🏻

  2. Allah ki Shan Subhan Allah🤲
    Waqi Mai Allah Jb Chahaiy Kisi Par Apny Dolatt Ka Darwaza Kol Daiy Or Jb Chahaiy Kisi Par Eisi Dolatt Ka Darwaza Band Kardaiy🤷🏻Khair Allah Hum Sub Apna karam Or Raihm Karay Ameen🤲Jazak Allah Wa Allf Khair Adil Bhai 👍✌️

  3. Al hamdo lillah…
    Al hamdo lillah…
    Al hamdo lillah…
    I am very very happy by heart…
    I am an expatriate but I am happy for the kingdom…
    May ALLAH subhana wa taala bless the kingdom more more…

  4. मुसलमान को चाहिए हज बंद कर देना चाहिए मदीना में हिंदू घूम रहे हैं मुसलमान का पैसा अय्याशी में घूम रहे हैं

  5. السلام علیکم محترم عادل بھائی یہ پراجیکٹ ابھی کا نہیں ہے یہ 2014 میں شروع ہوا تھا مین روڈ سے تقریبا 120 کلومیٹر اندر صحرا میں پہاڑوں میں ہیں
    ہم نے ادھر کام کیا ہے اور ابھی ہمارا ویزہ خراب ہے پاکستان جانے کا سوچ رہے ہے

  6. ماشاء اللہ ماشاء اللہ اللہ پاک ملک سعودی عرب اور ملک پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے اور سعودی حکومت صحت والی لمبی زندگی اور اللہ اپنی رحمت کے صدقے میرے کفیل کے رزق میں برکت عطا امین

  7. Pakistan men bi sona nkla tha es wqt shabaz Shareef ny boht barky بھڑکے mri thi mgr kuch bi ni tha bus sasitat thi
    Kash Pakistan men bi kuch nkal taka Pakistan bi traki kry or pardesi apny gahoron ko jany

  8. ‏جب امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو جتلایا کہ امریکی تحفظ کے بغیر تمہاری حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔

    ان ہی دنوں سعودیہ میں ایک اونٹ کو 16 ملین ریال کا سونے کاہار پہنایا گیا تھا ۔

    مسلم حکمرانوں کے لیے وہ کتنا عبرتناک منظر تھا جب معتصم بااللہ آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔!

    کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کہ سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے جواہرات رکھ دیے۔۔۔

    پھر معتصم سے کہا :
    " کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ

    بغداد کا تاج دار بےچارگی و بےبسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
    بولا " میں سونا کیسے کھاؤں؟ "

    ہلاکو نے فورا کہا :
    " پھر تم نے یہ سونا اور چاندی کیوں جمع کیا؟

    وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کے لئے ترغیب دیتا تھا،
    کچھ جواب نہ دے سکا۔۔۔۔۔

    ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے
    اور سوال کیا:
    " تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہیں بنائے ؟
    تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی کہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟"

    خلیفہ نے تأسف سے جواب دیا:
    " اللہ کی یہی مرضی تھی "

    ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا:
    " پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہوگی

    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا اور چشم فلک نے دیکھا کہ اس نے بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔۔۔

    ہلاکو نے کہا " آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔۔۔۔
    اور ایسا ہی ہوا۔۔۔۔

    تاریخ تو فتوحات گنتی ہے
    محل،
    لباس،
    ہیرے،
    جواہرات
    اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں۔۔۔۔۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا مگر دیوار پر تلواریں ضرور لٹکی ہوئی ہوتی تھیں۔

    ذرا تصور کریں۔۔۔۔۔
    جب یورپ کے چپےچپے پر تجربہ گاہیں
    اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا
    اور
    اسی دوران برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران ڈلیوری فوت ہو جانے پر ریسرچ کے لئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل سکول کی بنیاد رکھ رہا تھا۔۔۔۔

    جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے تب یہاں تان سین جیسے گوئیے نت نئے راگ ایجاد کر رہےتھے اور نوخیز خوبصورت و پرکشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔!🌹

    🌹جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے تب ہمارے ارباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔۔۔

    تاریخ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی ؟
    شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟

    درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں، طوائفوں، وظیفہ خوار شاعروں اور جی حضوریوں کا جھرمٹ ہے یا نہیں ?

    تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی۔۔۔

    اور جن لوگوں کو اس حقیقت کا ادرک نہیں ان کا حال خلیفہ معتصم باللہ سے کم نہیں ہو گا۔

Leave a Reply